رشتہ داری

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - قرابت، ناتا، تعلق۔ "اب تو باوا فرید کے خاندان سے وٹوؤں کی رشتہ داری بھی ہو گئی ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، جانگلوس، ١٨٢ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'رشتہ' کے ساتھ 'دار' صیغۂ امر بطور لاحقۂ فاعلی کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب 'رشتہ داری' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٩٥ء کو "دیوان راسخ دہلوی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - قرابت، ناتا، تعلق۔ "اب تو باوا فرید کے خاندان سے وٹوؤں کی رشتہ داری بھی ہو گئی ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، جانگلوس، ١٨٢ )

جنس: مؤنث